ہیلتھ نیوز(خصوصی آرٹیکل) دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی فالج کا عالمی دن منایا جارہا ہے جسکا مقصد عوام میں اس خطرناک بیماری کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ فالج کا مرض اس وقت لاحق ہوتا ہے جب دماغ میں خون کی شریانیں بند یا پھر پھٹ جاتے ہیں کیونکہ فالج کا اٹیک ہونے مریض کے دماغ کے متاثرہ جگہوں پر موجود خلیات خون اور آکسیجن کی فراہمی بند ہونے سے مرنا شروع ہو جاتے ہیں اور ناکارہ ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے جسم میں کمزوری اور بولنے ، دیکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے علاوہ ازیں جسم کا آدھا یا کچھ حصہ ہمیشہ کیلئے مفلوج بھی ہو سکتا ہے۔
فالج کے حوالے سے عالمی اسٹروک آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہر چار میں سے ایک شخص عمر بڑھنے کی وجہ سے فالج کا شکار ہو رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق فالج دنیا بھر میں اموات کی تیسری بڑی اور طویل مدتی معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو فالج کا اٹیک ہو اور اس کے 3 گھنٹے کے اندر اسے طبی امداد فراہم کردی جائے تو اس شخص کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جاسکتا ہے۔
وجوہات کیا ہیں؟
اس بیماری کی بڑی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، مرغن خوراک، سگریٹ نوشی اور تمباکو سے تیار کردہ مواد خصوصاً گٹکا شامل ہے۔ جسمانی مشقت نہ کرنے والے لوگ جب ورزش نہیں کرتے تو یہ فالج کے لیے آسان ہدف ہوتے ہیں۔عالمی اسٹروک آرگنائزیشن کے مطابق فالج کے اس خطرے کو صرف جسمانی حرکت کے ذریعے ٹالا جاسکتا ہے، جسمانی طور پر زیادہ سے زیادہ فعال رہنا صرف فالج ہی نہیں بلکہ امراض قلب، شوگر اور دیگر کئی بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔اس کے لیے کسی باقاعدہ ورزش کی ضرورت نہیں بلکہ روز مرہ کے گھریلو کام، باہر کے کام جیسے سودا سلف وغیرہ لانا، دن میں کچھ وقت کی چہل قدمی اور سیڑھیاں چڑھنا اترنا بھی اس سلسلے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
Comments