ہیلتھ نیوز(خصوصی آرٹیکل) میڈیکل کی دنیا میں امراض دل انتہائی خطرناک تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ ایسے مریضوں کو موت کے خطرات زیادہ لاحق ہوتے ہیں۔ایک امریکی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ ایک مناسب مقدار میں پانی پینا دل کے دورے سے کافی حد تک بچا سکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یومیہ بنیادوں پر ضرورت کے مطابق پانی پینا چاہیے، بنیادی نقطہ جسم کو خشکی سے بچانا ہے۔
تحقیق کاروں کے مطابق ان آسان طریقوں کو اپناتے ہوئے خود کو دل کے دورے سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
روزانہ پانی پئیں
نتالیہ نامی پروفیسر کے مطابق ہر شخص کو اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر کتنی مقدار میں پانی پیتا ہے، اگر مقدار کم ہے تو اسے بڑھانے کی اشد ضرورت ہوگی، پانی کے مناسب مقدار میں استعمال سے دل صحت مند رہتا ہے۔پانی، خون کی گردش مناسب طریقے سے جسم میں جاری رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔
بلڈ پریشر
ماہرین نے کہا کہ اگر جسم کو پانی کی کمی کا سامنا ہے اور وہ خشکی کا شکار ہو رہا ہے ایسے میں ردعمل خود کار طریقے سے ہوگا اور پانی کی طلب بڑھ جائے گی جس سے بلڈ پریشر کا خطرہ لاحق ہونے یا دل کا دورہ پڑنے کا اندیشہ ہوگا۔
خون میں سوڈیم کی مقدار
امریکی ادارہ امراض قلب، پھیپھڑے اور خون کے ماہرین کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عمر کی درمیانی حد میں خون میں سوڈیم کی مقدار کے تناسب کا خیال رکھنا اہم ہوتا ہے جبکہ جسم میں رطوبت کے تناسب سے دل کے امراض کے لاحق ہونے کا خطرہ پتا لگایا جاسکتا ہے، پانی کم پینے سے سوڈیم کا ارتکاز بڑھ جاتا ہے۔
بایاں وینٹریکل (دل کےپمپنگ چیمبر کا تحفظ)
تحقیق کے دوران ماہرین نے پانی کے زیادہ استعمال اور بائیں وینٹریکل کی دیوار کی موٹائی بڑھنے کے مابین رابطے کے امکان کا بھی جائزہ لیا، بایاں وینٹریکل دل کا اہم پمپنگ چیمبر ہے جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکل صورت حال دل کے لیے خطرے کا سبب ہو سکتی ہے۔
یومیہ پانی کی مقدار
امریکی قومی اکیڈمی آف سائنسز اینڈ میڈیسن نے مشورہ دیا ہے کہ ایک بالغ مرد کو یومیہ 3.7 لیٹر یا 15.5 کپ یومیہ جبکہ خواتین کو 2.7 لیٹر یا 11.5 کپ پانی پینا چاہیے۔ انسان مختلف اقسام کی ڈیری مصنوعات جو چکنائی سے خالی ہوں، کے علاوہ تازہ پھل اور سبزیوں کا استعمال یقینی بنائیں۔
Comments